پاکستان آسٹریلیا کل شارجہ میں آمنے سامنے Pakistan and Austrilia Will face to face Tomorrow
پاکستان آسٹریلیا کل شارجہ میں آمنے سامنے
پیر 27 اگست 2012

آسٹریلیا
کے خلاف پہلے ایک روزہ میچ سے قبل پاکستانی کوچ ڈیو واٹمور پریکٹس سیشن کے
دوران کھلاڑیوں کو ہدایات دے رہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
آسٹریلیا حالیہ سیریز کے ذریعے اپنی خراب فارم سے باہر نکلنے اور دوبارہ اپنی پہلی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا کو جولائی میں انگلینڈ نے ون ڈے سیریز میں 0۔4 سے شکست دی تھی جس کے بعد آسٹریلیا ایک روزہ میچز کی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر آگیا تھا۔
دوسری جانب پاکستانی ٹیم کی بھی حالیہ دنوں میں ون ڈے میں پرفارمنس کافی خراب رہی ہے۔ فروری میں انگلینڈ نے گرین شرٹس کے خلاف چار ون ڈے میچز کی سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا۔
اس کے بعد جون میں سری لنکا نے پانچ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو 1۔3 کی شکست سے دوچار کردیا تھا جس کے بعد گرین شرٹس ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر آگئے تھے۔
حالیہ سیریز میں دونوں ہی ٹیمیں اچھا پرفارم کرکے اپنی فارم بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ون ڈے رینکنگ میں اپنی درجہ بندی بہتر کونے کی کوشش بھی کریں گی۔
آسٹریلین کپتان مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ میرے خیال میں دونوں ہی ٹیموں کو ون ڈے میچز میں مستقل مزاجی درکار ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریلیا کی طرح پاکستانی ٹیم میں بھی بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی ٹیم مستقل مزاجی سے پرفارم کرنے کے ساتھ ساتھ فیلڈ میں بہترین پرفارمنس اور اپنا بہترین کھیل پیش کرے گی، جیت اسی کا مقدر ہوگی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے آسٹریلیا کو 1989 کے بعد سے اب تک کسی بھی ون ڈے سیریز میں نہیں ہرایا اور کینگروز نے دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی گزشتہ چار سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے جس کی بدولت آسٹریلینز کو پاکستان پر نفسیاتی برتری حاصل ہوگی۔
دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے کوچ ڈیو واٹمور نے کہا ہے کہ یہ ایک دلچسپ مقابلہ ہوگا تاہم ان کے خیال میں گذشتہ کچھ سالوں میں کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ اور انجریز کی وجہ سے کینگرو ٹیم اب کمزور ہو چکی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی گرم اور مرطوب آب وہوا کے ساتھ ساتھ رات گئے ہونے والے میچز بھی میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں جبکہ سیریز میں اسپنرز کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
اسپنر کے رول کی وجہ سے پاکستانی ٹیم میں محمد حفیظ، شاہد آفریدی، سعید اجمل کی شمولیت کے امکانات روشن ہیں جبکہ آسٹریلین سائیڈ بھی زیویئر ڈوہرٹی، گلین میکس ویل اور اسٹیو اسمتھ جیسے اسپنر شامل ہیں تاہم ان میں سے کسی کو پاکستانی اسپنر جیسی مہارت حاصل نہیں۔
پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو شارجہ کے مقام پر کھیلنے کا ایڈوانٹیج حاصل ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے 1984 سے اب تک شارجہ کے مقام پر کھیلے گئے 109 میچ میں سے 76 جیتے جبکہ 33 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
تجربہ کار کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ہم یہ سیریز ایک نئی سیریز کے طور پر کھیل رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ لڑکے اس سیریز میں اچھا پرفارم کرینگے۔
تین میچیز پر مشتمل ایک روزہ سیریز کا پہلا میچ منگل کو شارجہ کرکٹ گرائونڈ پر کھیلا جائے گا، دوسرا ایک روزہ میچ اکتیس اگست کو ابوظہبی جبکہ تیسرا میچ تین ستمبر کو شارجہ میں کھیلا جائے گا۔
ایک روزہ میچز کی سیریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹوئنٹی ٹوئنٹی میز کی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔
دونوں ملکوں کے درمیان اب تک چھیاسی ایک روزہ میچیز کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے باون میچز چار بار کے ورلڈ چیمپیئنز آسٹریلیا نے جیتے ہیں جبکہ تیس بار کامیابی نے پاکستانی ٹیم کے قدم چومے۔
شارجہ میں دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک تین میچیز کھیلے جاچکے ہیں اور تینوں ہی میچز پاکستان نے کامیابی حاصل کی، آخری بار دونوں ٹیمیں اس گرائونڈ پر بائیس سال قبل آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں ایکشن میں نظر آئی تھیں۔




